الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
البابُ الثَّالِثُ فِيمَا يَجِبُ عَلَى الْإِمَامِ وَالْأَمِيرِ ، وَكُلٌ مَنْ وَلِيَ شَيْئًا مِنْ أُمُورِ النَّاسِ مِنَ الْعَدْلِ فِي رَعِيَّة وَعَدَمِ الظُّلْمِ وَالْجَوْرِ، وَأَنَّهُ مَسْئُولٌ عَنْ ذلك باب: سوم: ہر امام، امیر اور لوگوں کے معاملات کا مسئول بننے والے کی ذمہ داری ہے کہ وہ رعایا کے امور میں عدل و انصاف سے کام لے اور ظلم و جور سے بچے، بیشک اس سے اس بارے میں پوچھ گچھ ہوگی
حدیث نمبر: 12043
عَنْ أَبِي قَحْذَمٍ قَالَ وُجِدَ فِي زَمَنِ زِيَادٍ أَوْ ابْنِ زِيَادٍ صُرَّةٌ فِيهَا حَبٌّ أَمْثَالُ النَّوَى عَلَيْهِ مَكْتُوبٌ هَذَا نَبَتَ فِي زَمَانٍ كَانَ يُعْمَلُ فِيهِ بِالْعَدْلِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو قحذم کہتے ہیں: زیاد یا ابن زیاد کے عہد میں ایک تھیلی میں گٹھلیوں کے برابر غلے کے (موٹے موٹے) دانے ملے، ان پر یہ لکھا ہوا تھا کہ یہ غلہ اس زمانہ میں ہوتا تھا، جب عدل کا دور دورہ تھا۔