حدیث نمبر: 12042
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”مَا مِنْ أَمِيرِ عَشَرَةٍ إِلَّا يُؤْتَى بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَغْلُولًا لَا يَفُكُّهُ إِلَّا الْعَدْلُ أَوْ يُوبِقُهُ الْجَوْرُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی دس افراد کی چھوٹی سی جماعت پر امیر اور حاکم مقرر ہوتا ہے، اسے قیامت کے روز باندھ کر پیش کیا جائے گا، اسے اس کا عدل وانصاف رہائی دلائے گااور اس کا ظلم وجور اس کو ہلاک کر دے گا۔

وضاحت:
فوائد: … جن حکمرانوں نے پوری مملکت اور اس کے کروڑوں باشندوں کو داؤ پر لگا رکھا ہے، ان کا کیا حشر ہو گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12042
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده قوي، اخرجه ابويعلي: 6570،و ابن ابي شيبة: 12/ 219، والبيھقي: 3/ 129 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9573 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9570»