الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
البابُ الثَّالِثُ فِيمَا يَجِبُ عَلَى الْإِمَامِ وَالْأَمِيرِ ، وَكُلٌ مَنْ وَلِيَ شَيْئًا مِنْ أُمُورِ النَّاسِ مِنَ الْعَدْلِ فِي رَعِيَّة وَعَدَمِ الظُّلْمِ وَالْجَوْرِ، وَأَنَّهُ مَسْئُولٌ عَنْ ذلك باب: سوم: ہر امام، امیر اور لوگوں کے معاملات کا مسئول بننے والے کی ذمہ داری ہے کہ وہ رعایا کے امور میں عدل و انصاف سے کام لے اور ظلم و جور سے بچے، بیشک اس سے اس بارے میں پوچھ گچھ ہوگی
حدیث نمبر: 12040
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ أَحَبَّ النَّاسِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَقْرَبَهُمْ مِنْهُ مَجْلِسًا إِمَامٌ عَادِلٌ وَإِنَّ أَبْغَضَ النَّاسِ إِلَى اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَشَدَّهُ عَذَابًا إِمَامٌ جَائِرٌ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عادل حکمران قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہوگا اور وہ سب سے بڑھ کر اللہ کے قریب جگہ پائے گا۔ اور قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسند اور سب سے زیادہ سخت عذاب کا مستحق وہ حکمران ہوگا جو دنیا میں دوسروں پر ظلم ڈھاتا رہا۔