الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
فَضْلُ آخَرُ فِي عَدَدِ الْخُلَفَاءِ مِنْ قُرَيْشٍ باب: فصل: قریشی خلفاء کی تعداد
عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَهُوَ يُقْرِئُنَا الْقُرْآنَ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ هَلْ سَأَلْتُمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَمْ تَمْلِكُ هَذِهِ الْأُمَّةُ مِنْ خَلِيفَةٍ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ مَا سَأَلَنِي عَنْهَا أَحَدٌ مُنْذُ قَدِمْتُ الْعِرَاقَ قَبْلَكَ ثُمَّ قَالَ نَعَمْ وَلَقَدْ سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”اثْنَا عَشَرَ كَعِدَّةِ نُقَبَاءِ بَنِي إِسْرَائِيلَ“مسروق سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، وہ ہمیں قرآن کریم پڑھا رہے تھے، اس دوران ایک آدمی نے ان سے کہا: ابوعبدالرحمن! کیا آپ نے رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کبھی یہ دریافت کیا کہ اس امت میں کتنے خلفاء آئیں گے؟ انھوں نے کہا: میں جب سے عراق میں آیاہوں، آپ سے پہلے کسی نے مجھ سے یہ سوال نہیں کیا، جی ہاں، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا تھا اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاتھا کہ میری امت میں خلفاء کی تعداد بارہ ہو گی، جو بنو اسرائیل کے نقباء کی تعداد تھی۔