الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
البابُ الأَوَّلُ فِيمَا جَاءَ أَنَّ النَّبِيُّ لَمْ يَتَخَلَّفْ قَبل وَفَاتِهِ باب: (باب اول) اس امر کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زندگی میں کسی کو اپنا خلیفہ نامزد نہیں فرمایا
عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: كَانَ مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، يُحَدِّثُ أَنَّهُ بَلَغَ مُعَاوِيَةَ، وَهُوَ عِنْدَهُ فِي وَفْدٍ مِنْ قُرَيْشٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَيَكُونُ مَلِكٌ مِنْ قَحْطَانَ، فَغَضِبَ مُعَاوِيَةُ، فَقَامَ فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ! فَإِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّ رِجَالًا مِنْكُمْ يُحَدِّثُونَ أَحَادِيثَ لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ، وَلَا تُؤْثَرُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أُولَئِكَ جُهَّالُكُمْ، فَإِيَّاكُمْ وَالْأَمَانِيَّ الَّتِي تُضِلُّ أَهْلَهَا، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”إِنَّ هَذَا الْأَمْرَ فِي قُرَيْشٍ، لَا يُنَازِعُهُمْ أَحَدٌ إِلَّا أَكَبَّهُ اللَّهُ عَلَى وَجْهِهِ مَا أَقَامُوا الدِّينَ.“امام زہری کہتے ہیں کہ محمد بن جبیر بن مطعم ایک قریشی وفدمیں شریک سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، انھوں نے بیان کیا کہ معاویہ کو یہ بات پہنچی کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان کی کہ عنقریب قحطان کا ایک بادشاہ ہو گا، تو معاویہ غصے میں آ گئے، کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور کہا: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ بعض لوگ ایسی باتیں بیان کرتے ہیں، جو نہ تو اللہ کی کتاب میں پائی جاتی ہیں اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول ہوتی ہیں۔ یہ لوگ پر لے درجے کے جاہل ہیں۔ اس قسم کی خواہشات سے بچوجو خواہش پرستوں کو گمراہ کر دیتی ہیں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: یہ (امارت والا) معاملہ قریشیوں میں رہے گا، جب تک وہ دین کو قائم رکھیں گے، ان سے دشمنی کرنے والے کو اللہ تعالیٰ منہ کے بل گرادے گا۔
میں (البانی) کہتا ہوں: آج بھی امت ِ مسلمہ کے حالات اسی طرح بدتر ہیں، بلکہ اس سے بھی کہیں زیادہ سنگین ہیں، کیونکہ آج سرے سے مسلمانوںکا کوئی خلیفہ نہیں ہے، نہ اسمی طور پر اور نہ رسمی طور پر۔ اکثر اسلامی ممالک پر یہودی، کیمونسٹ اور منافق غلبہ پا چکے ہیں۔
ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کو شرعی امور میں باہمی مشاورت کی اور حکام کو متحد ہو کر شرعی احکام کے مطابق ایک سلطنت تشکیل دینے کی توفیق سے نوازے، تاکہ یہ دنیا میں عزت اور آخرت میں سعادت پا سکیں۔ اگر ایسے نہ ہوا تو ہم اس آیت کے مصداق بن کر رہ جائیں گے: {اِنَّ اللّٰہَ لَایُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یَغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِھِمْ} (سورۂ رعد: ۱۱) … کسی قوم کی حالت اللہ تعالیٰ نہیں بدلتا جب تک کہ وہ خود اسے نہ بدلیں جو ان کے دلوں میں ہو۔
اس آیت کی تفسیر اس حدیث میں کی گئی ہے: سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((إِذَا تَبَایَعْتُمْ بِالْعِیْنَۃِ، وَأَخَذْتُمْ أَذْنَابَ الْبَقَرِ، وَرَضِیْتُمْ بِالزَّرْعِ، وَتَرَکْتُمُ الْجِھَادَ، سَلَّطَ اللّٰہُ عَلَیْکُمْ ذُلاًّ لَایَنْزِعُہُ حَتّٰی تَرْجِعُوْا إِلٰی دِیْنِکُمْ۔)) (صحیحہ:۱۱) … جب تم بیع عِینہ کرو گے، ہاتھوں میں بیلوں کی دمیں پکڑ لو گے، کھیتی باڑی کرنے پر راضی ہو جاؤ گے اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنا چھوڑ دوگے تو اللہ تعالیٰ تم پر ذلت مسلّط کر دے گا اور اس وقت تک نہیں اٹھائے گا جب تک تم دین کی طرف نہیں لوٹ آؤ گے۔
سو مسلم حاکمو! اور مسلم محکومو! اپنے دین کی طرف پلٹ آؤ۔ (صحیحہ: ۲۸۵۶)