الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
البابُ الأَوَّلُ فِيمَا جَاءَ أَنَّ النَّبِيُّ لَمْ يَتَخَلَّفْ قَبل وَفَاتِهِ باب: (باب اول) اس امر کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زندگی میں کسی کو اپنا خلیفہ نامزد نہیں فرمایا
عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ رَجُلٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ يَوْمَ الْجَمَلِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَعْهَدْ إِلَيْنَا عَهْدًا نَأْخُذُ بِهِ فِي الْإِمَارَةِ وَلَكِنَّهُ شَيْءٌ رَأَيْنَاهُ مِنْ قِبَلِ أَنْفُسِنَا ثُمَّ اسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى أَبِي بَكْرٍ فَأَقَامَ وَاسْتَقَامَ ثُمَّ اسْتُخْلِفَ عُمَرُ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى عُمَرَ فَأَقَامَ وَاسْتَقَامَ حَتَّى ضَرَبَ الدِّينُ بِجِرَانِهِسیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے جنگ جمل کے روز فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امارت (خلافت) کے بارے میں ہم سے کچھ نہیں فرمایا، بلکہ یہ ایسا معاملہ ہے جسے ہم نے یعنی امت نے اپنے اجتہاد سے اختیار کیا اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کو خلفیہ منتخب کر لیا گیا، ان پر اللہ کی رحمت ہوـ، انہو ں نے اپنی ذمہ داری کو خوب نبھایا، ان کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ منتخب کر لیا گیا، انہوں نے بھی اپنی ذمہ داری کو اس قد رعمدگی سے ادا کیا کہ روئے زمین پر اسلام کا بول بالا ہوگیا۔