حدیث نمبر: 1198
عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الصُّنَابِحِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ الشَّمْسَ تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَي شَيْطَانٍ، فَإِذَا ارْتَفَعَتْ فَارَقَهَا فَإِذَا كَانَتْ فِي وَسْطِ السَّمَاءِ قَارَنَهَا، فَإِذَا دَلَكَتْ أَوْ قَالَ: زَالَتْ فَارَقَهَا، فَإِذَا دَنَتْ لِلْغُرُوبِ قَارَنَهَا فَإِذَا غَرَبَتْ فَارَقَهَا، فَلَا تُصَلُّوا هَٰذِهِ الثَّلَاثَ سَاعَاتٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو عبد اللہ صنابحی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے، پس جب وہ بلند ہوجاتا ہے تو وہ الگ ہو جاتا ہے، پھر جب سورج آسمان کے درمیان پہنچتا ہے تو شیطان اس سے مل جاتا ہے، پس جب وہ ڈھلتا ہے تو وہ اس سے علیحدہ ہو جاتا ہے اور جب وہ غروب ہونے کے قریب ہوتا ہے تو شیطان اس سے مل جاتا ہے، پھر جب وہ غروب ہو جاتا ہے تو وہ اس سے جدا ہو جاتا ہے، پس تم ان تین گھڑیوں میں نماز نہ پڑھا کرو۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1198
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 1253، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19063 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19273»