الفتح الربانی
كتاب الصلاة— نماز کی کتاب
بَابُ وَقْتِ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَمَا جَاءَ فِي التَّغْلِيسِ بِهَا وَالْإِسْفَارِ باب: نمازِ فجر کے وقت اور اس نماز کو اندھیرے میں یا روشنی میں پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 1180
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَقْتِ صَلَاةِ الصُّبْحِ، قَالَ: فَأَمَرَ بِلَالًا حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ فَأَقَامَ الصَّلَاةَ ثُمَّ أَسْفَرَ مِنَ الْغَدِ حَتَّى أَسْفَرَ ثُمَّ قَالَ: ((أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ صَلَاةِ الْغَدَاةِ؟ مَا بَيْنَ هَاتَيْنِ (أَوْ قَالَ: هَٰذَيْنِ) وَقْتٌ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ سے نمازِ فجر کے بارے میں سوال کیا گیا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا بلالؓ کو اس وقت اقامت کہنے کا حکم دیا، جب فجر طلوع ہوئی، پھر دوسرے دن روشنی کی(اور پھر نماز ادا کی) اور فرمایا: نمازِ فجر کے وقت کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے؟ ان دو وقتوں کے درمیان اس کا وقت ہے۔