الفتح الربانی
كتاب الصلاة— نماز کی کتاب
بَابُ اسْتِحْبَابِ تَأْخِيرِهَا إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ أَوْ نِصْفِهِ باب: نمازِ عشاء کو ایک تہائی یا نصف رات تک مؤخر کرنے کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 1176
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ قَالَا: أَنَا ابْنُ جُرَيجٍ أَخْبَرَنِي الْمُغِيرَةُ بْنُ حَكِيمٍ عَنْ أُمِّ كَلْثُومٍ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: أَعْتَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ حَتَّى ذَهَبَ عَامَّةُ اللَّيْلِ وَحَتَّى نَامَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ (وَقَالَ ابْنُ بَكْرٍ: رَقَدَ) ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى فَقَالَ: ((إِنَّهُ لَوَقْتُهَا، لَوْ لَمْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي)) وَقَالَ ابْنُ بَكْرٍ: ((أَنْ أَشُقَّ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ عشا کو مؤخر کیا، یہاں تک کہ رات کا عام حصہ گزر گیا اور اہل مسجد سو گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے، نماز پڑھائی اور فرمایا: یہی اس نماز کا وقت ہوتا، اگر میری امت پر گراں نہ گزرتا۔