حدیث نمبر: 1172
عَنْ عَاصِمِ بْنِ حُمَيْدٍ الشَّكُونِيِّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ عَنْ مُعَاذٍ قَالَ: رَقَبْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْعِشَاءِ فَاحْتَبَسَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنْ لَنْ يَخْرُجَ وَالْقَائِلُ مِنَّا يَقُولُ: قَدْ صَلَّى وَلَنْ يَخْرُجَ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! ظَنَنَّا أَنَّكَ لَنْ تَخْرُجَ وَالْقَائِلُ مِنَّا يَقُولُ: قَدْ صَلَّى وَلَنْ يَخْرُجَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((اعْتِمُوا بِهَٰذِهِ الصَّلَاةِ فَقَدْ فُضِّلْتُمْ بِهَا عَلَى سَائِرِ الْأُمَمِ وَلَمْ يُصَلِّهَا أُمَّةٌ قَبْلَكُمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

عاصم بن حمید شکونی، جو کہ سیدنا معاذ بن جبل ؓ کے ساتھیوں میں سے تھے، بیان کرتے ہیں کہ سیدنا معاذ ؓ نے کہا: ایک دن نمازِ عشاء کے لیے ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتظار کرتے رہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکے رہے، یہاں تک کہ ہم یہ خیال کرنے لگے کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر گز نہیں نکلیں گے اور ہم میں سے کوئی کہتا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ نماز پڑھ لی ہے اور اب ہر گز نہیں نکلیں گے۔اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے اور ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم تو یہ خیال کرنے لگے تھے کہ اب آپ ہر گز نہیں نکلیں گے اور ہم میں سے بعض افراد یہ کہنے لگے کہ آپ نے نماز پڑھ لی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف نہیں لائیں گے، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس نماز کو تاخیر سے ادا کیا کرو، پس بیشک اس کے ذریعے تم کو تمام امتوں پر فضیلت دی گئی ہے، تم سے پہلے کسی امت نے یہ نماز نہیں پڑھی۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1172
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 421 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22066 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22416»