حدیث نمبر: 1170
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: انْتَظَرْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً بِصَلَاةِ الْعِشَاءِ حَتَّى ذَهَبَ نَحْوٌ مِنْ شَطْرِ اللَّيْلِ، قَالَ: فَجَاءَ فَصَلَّى بِنَا ثُمَّ قَالَ: ((خُذُوا مَقَاعِدَكُمْ فَإِنَّ النَّاسَ قَدْ أَخَذُوا مَضَاجِعَهُمْ وَإِنَّكُمْ لَنْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مُنْذُ انْتَظَرْتُمُوهَا، وَلَوْلَا ضَعْفُ الضَّعِيفِ وَسُقْمُ السَّقِيمِ وَحَاجَةُ ذِي الْحَاجَةِ لَأَخَّرْتُ هَٰذِهِ الصَّلَاةَ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم ایک رات کو نمازِ عشا کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتظار کرتے رہے، یہاں تک کہ تقریباً نصف رات گزر گئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور ہمیں نماز پڑھائی اور فرمایا: اپنی جگہوں پر بیٹھے رہو، پس بیشک (دوسری مسجدوں کے) لوگ یہ نماز ادا کر کے سو چکے ہیں اور تم لوگ جب سے اس نماز کا انتظار کر رہے تھے، اس وقت سے نماز میں ہی تھے اور اگر کمزور کی کمزوری، بیمار کی بیماری اور محتاج کی حاجت نہ ہوتی تو میں اس نماز کو نصف رات تک مؤخر کر دیتا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1170
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه ابوداود: 422، والنسائي: 1/ 268، وابن ماجه: 693 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11015 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11028»