الفتح الربانی
كتاب الصلاة— نماز کی کتاب
بَابُ وَقْتِ صَلَاةِ الْعِشَاءِ وَكَرَاهَةِ السَّمَرِ بَعْدَهَا وَتَسْمِيَتِهَا بِالْعَتَمَةِ باب: نماز عشا کے وقت اور اس کے بعد گفتگو کرنے اور اس کو عَتَمَۃ کہنے کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 1165
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لَا تَغْلِبَنَّكُمُ الْأَعْرَابُ عَلَى اسْمِ صَلَاتِكُمْ، أَلَا وَإِنَّهَا الْعِشَاءُ، وَإِنَّهُمْ يُعْتِمُونَ بِالْإِبِلِ أَوْ عَنِ الْإِبِلِ، (وَفِي لَفْظٍ) إِنَّمَا يَدْعُونَهَا الْعَتَمَةَ لِاعْتِامِهِمْ بِالْإِبِلِ لِحَلَابِهَا))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بدّو لوگ تمہاری نمازکے نام پر غالب نہ آ جائیں، خبردار! یہ عشاء کی نماز ہے، چونکہ وہ لوگ اونٹوں کی وجہ سے رات کی تاریکی میں داخل ہو جاتے ہیں۔ ایک روایت میں ہے: وہ اس نماز کو عَتَمَۃ اس لیے کہتے ہیں، کیونکہ وہ اونٹوں کو دوہنے کی وجہ سے تاریکی میں داخل ہو جاتے ہیں۔