الفتح الربانی
كتاب الصلاة— نماز کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي تَعْجِيلِهَا وَكَرَاهَةِ تَسْمِيَتِهَا بِالْعِشَاءِ باب: نمازِ مغرب کو جلدی ادا کر لینے اور اس کو عشاء کا نام دینے کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 1154
عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصُّنَابِحِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَنْ تَزَالَ أُمَّتِي فِي مُسْكَةٍ مَا لَمْ يَعْمَلُوا بِثَلَاثٍ، مَا لَمْ يُؤَخِّرُوا الْمَغْرِبَ بِانْتِظَارِ الْإِظْلَامِ مُضَاهَاةَ الْيَهُودِ، وَمَا لَمْ يُؤَخِّرُوا الْفَجْرَ إِمْحَاقَ النُّجُومِ مُضَاهَاةَ النَّصَارَى، وَمَا لَمْ يَكِلُوا الْجَنَائِزَ إِلَى أَهْلِهَا))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو عبد الرحمن صنابحی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت اس وقت تک ہمیشہ خیر پر برقرار رہے گی، جب تک یہ تین کام نہیں کرے گی: یہودیوں کی مشابہت کرتے ہوئے اندھیرے کے انتظار میں مغرب کو لیٹ کرنا، عیسائیوں کی مشابہت کرتے ہوئے ستاروں کے چھپ جانے تک فجر کو مؤخر کرنا اور جنازے کو اس کے اہل کے سپرد کر دینا۔