الفتح الربانی
كتاب الصلاة— نماز کی کتاب
بَابُ وَقْتِ الْمَغْرِبِ وَأَنَّهَا وِتْرُ صَلَاةِ النَّهَارِ باب: مغرب کے وقت کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ یہ نماز دن کی نمازوں کو طاق کرنے والی ہے
حدیث نمبر: 1152
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((صَلَاةُ الْمَغْرِبِ وَتْرُ صَلَاةِ النَّهَارِ فَأَوْتِرُوا صَلَاةَ اللَّيْلِ، وَصَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نمازِ مغرب، دن کی نماز کا وتر ہے، پس رات کی نماز کو بھی وتر بنایا کرو، اور رات کی نماز دو دو رکعت ہے اور رات کے آخری حصے میں وتر ایک رکعت ہے۔
وضاحت:
فوائد: … بہرحال یہ تو ثابت ہے کہ رات کی نماز دو دو رکعت ہے اور اس کے آخر میں ایک کعت وتر ادا کیا جا سکتا ہے۔ وتر اگرچہ رات کے آخری حصہ میں پڑھنا افضل ہے۔ لیکن یہ عشاء کی نماز کے بعد سے لے کر طلوعِ فجر سے پہلے تک کسی بھی وقت پڑھا جا سکتا ہے۔ (بخاری: ۹۹۶) (عبداللہ رفیق)