الفتح الربانی
— باب
بَابٌ مَا جَاءَ فِي ذِكْرِ آلِ بَيْتِهِ الْمُطَهَّرِينَ باب: اہل بیت اطہار کا ذکر خیر
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”إِنِّي أُوشِكُ أَنْ أُدْعَى فَأُجِيبَ وَإِنِّي تَارِكٌ فِيكُمُ الثَّقَلَيْنِ كِتَابَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَعِتْرَتِي كِتَابُ اللَّهِ حَبْلٌ مَمْدُودٌ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ وَعِتْرَتِي أَهْلُ بَيْتِي وَإِنَّ اللَّطِيفَ الْخَبِيرَ أَخْبَرَنِي أَنَّهُمَا لَنْ يَفْتَرِقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ فَانْظُرُونِي هُمْ تَخْلُفُونِي فِيهِمَا“سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے: بیشک قریب ہے کہ مجھے بلایا جائے ا ور میں اس دعوت کو قبول کر لوں، میں تمہارے درمیان دو اہم اور مضبوط چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں ایک تو اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے اور دوسری چیز میراخاندان، اللہ کی کتاب وہ رسی ہے، جو آسمان سے زمین کی طرف لٹک رہی ہے اور میرا خاندان میرے اہل بیت ہیں۔ اللہ تعالیٰ بہت باریک بیں اور ہر چیز سے باخبر ہے، اس نے مجھے اطلاع دی ہے کہ یہ دونوں حوض پر آنے تک یعنی قیامت تک ایک دوسری سے جدا نہ ہوں گی، تم میرا خیال رکھنا کہ تم میرے بعد ان کے ساتھ کیسا برتاؤ کرتے ہو؟