الفتح الربانی
— باب
بَابٌ مَا جَاءَ فِي ذِكْرِ آلِ بَيْتِهِ الْمُطَهَّرِينَ باب: اہل بیت اطہار کا ذکر خیر
عَنْ شَدَّادٍ أَبِي عَمَّارٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ وَعِنْدَهُ قَوْمٌ فَذَكَرُوا عَلِيًّا فَلَمَّا قَامُوا قَالَ لِي أَلَا أُخْبِرُكَ بِمَا رَأَيْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ بَلَى قَالَ أَتَيْتُ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا أَسْأَلُهَا عَنْ عَلِيٍّ قَالَتْ تَوَجَّهَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَلَسْتُ أَنْتَظِرُهُ حَتَّى جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ عَلِيٌّ وَحَسَنٌ وَحُسَيْنٌ آخِذٌ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِيَدِهِ حَتَّى دَخَلَ فَأَدْنَى عَلِيًّا وَفَاطِمَةَ فَأَجْلَسَهُمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَأَجْلَسَ حَسَنًا وَحُسَيْنًا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى فَخِذِهِ ثُمَّ لَفَّ عَلَيْهِمْ ثَوْبَهُ أَوْ قَالَ كِسَاءً ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ {إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا} [الأحزاب: 33] وَقَالَ ”اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي وَأَهْلُ بَيْتِي أَحَقُّ“ابو عمار شداد کہتے ہیں: میں سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، ان کے ہاں بہت سے لوگ بیٹھے تھے، انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ذکر چھیڑا دیا۔ (یعنی ان کے بارے میں ناگوار اور ناپسندیدہ باتیں کرنے لگے)، جب وہ اٹھ کر چلے گئے تو سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا: کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک چشم دید واقعہ بیان نہ کر دوں؟ میں نے عرض کیا: جی ضرور بیان فرمائیں۔ انہوں نے کہا: میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گیا اور ان سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں دریافت کیا کہ وہ کہاں ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ وہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے ہوئے ہیں، میں ان کی انتظار میں بیٹھ گیا، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے۔آپ نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ دونوں کو ایک ایک ہاتھ میں اٹھایا ہوا تھا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اندر چلے آئے اور آپ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اپنے سامنے بٹھا لیا اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ دونوں کو اپنی ران پر بٹھا لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک چادر یا اپنا کپڑا ان سب کے اوپر ڈال دیا۔پھر یہ آیت تلاوت کی:{إِنَّمَا یُرِیدُ اللّٰہُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ أَہْلَ الْبَیْتِ وَیُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیرًا} … کہ اللہ تم سے یعنی نبی کے اہل بیت سے ہر قسم کی ناپاکی کو دور کرکے مکمل طور پر پاک صاف کرنا چاہتا ہے۔ (سورۂ احزاب:۳۳) ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یا اللہ! یہ بھی میرے اہل بیت ہیں اور میرے اہل بیت اس سعادت کے زیادہ حق دار ہیں۔