الفتح الربانی
— باب
بَابٌ مَا جَاءَ فِي ذِكْرِ آلِ بَيْتِهِ الْمُطَهَّرِينَ باب: اہل بیت اطہار کا ذکر خیر
عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِفَاطِمَةَ ”ائْتِينِي بِزَوْجِكِ وَابْنَيْكِ“ فَجَاءَتْ بِهِمْ فَأَلْقَى عَلَيْهِمْ كِسَاءً فَدَكِيًّا قَالَ ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهِمْ ثُمَّ قَالَ ”اللَّهُمَّ إِنَّ هَؤُلَاءِ آلُ مُحَمَّدٍ فَاجْعَلْ صَلَوَاتِكَ وَبَرَكَاتِكَ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ“ قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ فَرَفَعْتُ الْكِسَاءَ لِأَدْخُلَ مَعَهُمْ فَجَذَبَهُ مِنْ يَدِي وَقَالَ ”إِنَّكِ عَلَى خَيْرٍ“سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: تم اپنے شوہر اور دونوں بیٹوں کو میرے پاس لے آؤ۔ وہ ان کوبلا کر لے آئیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فدک (خیبر کے علاقے) کی تیار شدہ ایک چادر ان کو اوڑھا دی اور اپنا ہاتھ سب کے اوپر رکھ کر فرمایا: یا اللہ! یہ لوگ آل محمد ہیں، تو اپنی رحمتیں اور برکتیںمحمد اور آل محمد پر نازل فرما، بے شک تو ہی قابل تعریف اور بزرگی کے لائق ہے۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں: میں نے چادر اٹھا کر ان کے ساتھ اندر داخل ہونے کی کوشش کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے ہاتھ سے چادر کو کھینچ لیا اور فرمایا: تم تو پہلے ہی خیر اور بھلائی پر ہو۔
یہی دوسرا مفہوم ہی واضح ہے۔ (عبداللہ رفیق)