الفتح الربانی
كتاب الصلاة— نماز کی کتاب
بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ الْعَصْرِ وَبَيَانِ أَنَّهَا الْوُسْطَى باب: نماز عصر کی فضیلت اور اس کے نمازِ وسطی ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 1138
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَاتَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَدُوًّا فَلَمْ يَفْرُغْ مِنْهُمْ حَتَّى أَخَّرَ الْعَصْرَ عَنْ وَقْتِهَا، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ قَالَ: ((اللَّهُمَّ مَنْ حَبَسَنَا عَنِ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى فَامْلَأْ بُيُوتَهُمْ نَارًا وَامْلَأْ قُبُورَهُمْ نَارًا)) أَوْ نَحْوَ ذَلِكَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ نبیِ کریم نے دشمن سے قتال کیا اور اس سے فارغ نہ ہوئے، یہاں تک کہ عصر کو اس کے وقت سے مؤخر کر دیا اور جب یہ صورت حال دیکھی تو فرمایا: اے اللہ! جنھوں نے ہم کو صلاۃِ وُسْطٰی سے روکے رکھا، تو ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے۔ یا اسی قسم کی بات ارشاد فرمائی۔