الفتح الربانی
كتاب الصلاة— نماز کی کتاب
بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ الْعَصْرِ وَبَيَانِ أَنَّهَا الْوُسْطَى باب: نماز عصر کی فضیلت اور اس کے نمازِ وسطی ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 1134
عَنْ أَبِي بَصْرَةَ الْغَفَّارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعَصْرِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: ((إِنَّ هَٰذِهِ الصَّلَاةَ عُرِضَتْ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فَتَوَانَوْا فِيهَا وَتَرَكُوهَا، فَمَنْ صَلَّاهَا مِنْكُمْ ضُعِّفَ لَهُ أَجْرُهَا ضِعْفَيْنِ، وَلَا صَلَاةَ بَعْدَهَا حَتَّى يُرَى الشَّاهِدُ، وَالشَّاهِدُ النَّجْمُ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوبصرہ غفاریؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے فارغ ہوئے تو فرمایا: بیشک یہ نماز تم سے پہلے والے لوگوں پر بھی پیش کی گئی تھی، لیکن انھوں نے اس معاملے میں سستی برتی اور اس کو ترک کر دیا، پس تم میں سے جو شخص اس کو ادا کرے گا، اس کو دو گنا اجر عطا کیا جائے گا اور اس کے بعد کوئی نماز نہیں ہے، جہاں تک شاہد طلوع ہو جائے اور شاہد سے مراد ستارہ ہے۔