حدیث نمبر: 1131
عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ نَافِعِ الْكِلَابِيِّ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ قَالَ: مَرَرْتُ بِمَسْجِدِ الْمَدِينَةِ فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَإِذَا شَيْخٌ فَلَامَ الْمُؤَذِّنَ وَقَالَ: أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ أَبِي أَخْبَرَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُ بِتَأْخِيرِ هَٰذِهِ الصَّلَاةِ، قَالَ: قُلْتُ: مَنْ هَٰذَا الشَّيْخُ؟ قَالُوا: هَٰذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

اہل بصرہ کا ایک آدمی عبد الواحد بن نافع کلابی کہتا ہے: میں شہر کی مسجد سے گزرا، پس نماز کے لیے اقامت کہہ دی گئی، لیکن ایک بزرگ نے مؤذن کو ملامت کی اور کہا: کیا تجھے علم نہیں ہے کہ میرے باپ نے مجھے بتلایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس نماز کو مؤخر کرنے کا حکم دیتے تھے۔ میں نے کہا: یہ بزرگ کون ہے؟ انھوں نے کہا: یہ عبد اللہ بن رافع بن خدیج ہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1131
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف ومتنه منكر، عبد الواحد بن نافع كلَّموا عليه۔ أخرجه الدارقطني: 1/ 251 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17282 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17414»