الفتح الربانی
كتاب الصلاة— نماز کی کتاب
بَابُ وَقْتِ الْعَصْرِ وَمَا جَاءَ فِيهَا باب: عصر کے وقت اور اس کے بارے میں مزید روایات کا بیان
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: مَا كَانَ أَحَدٌ أَشَدَّ تَعْجِيلًا لِصَلَاةِ الْعَصْرِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنْ كَانَ أَبْعَدَ رَجُلَيْنِ مِنَ الْأَنْصَارِ دَارًا مِنْ مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمْ لَأَبِي لُبَابَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُنْذِرِ أَخُو بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ وَأَبِي عِيسَى بْنِ جَبْرٍ أَخُو بَنِي حَارِثَةَ دَارُ أَبِي لُبَابَةَ بِقُبَاءَ وَدَارُ أَبِي عِيسَى بْنِ جَبْرٍ فِي بَنِي حَارِثَةَ ثُمَّ إِنْ كَانَ لَيُصَلِّيَانِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ، ثُمَّ يَأْتِيَانِ قَوْمَهُمَا وَمَا صَلَّيَا لِتَبْكِيرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِهَاسیدنا انس ؓ سے مروی ہے کہ کوئی آدمی ایسا نہیں ہے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بہ نسبت نمازِ عصر جلدی پڑھتاہے، انصاریوں کے دو آدمیوں کے گھر مسجد ِ نبوی سے سب سے زیادہ دور تھے، ایک آدمی سیدنا ابو لبابہ بن عبد المنذر ؓ تھے، اس کا گھر قباء میں تھا اور دوسرا آدمی سیدنا ابو عیسی بن جبر ؓتھا، اس کا گھربنوحارثہ میں تھا، اور یہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نمازِ عصر پڑھتے تھے، پھر جب یہ اپنے گھروں میں پہنچتے تھے تو انھوں نے ابھی تک یہ نماز نہیں پڑھی ہوتی تھی، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اتنی جلدی کرتے تھے۔