حدیث نمبر: 1122
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ: ثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُهَاجِرٍ أَبِي الْحَسَنِ مِنْ بَنِي تَيْمِ اللَّهِ مَوْلًى لَهُمْ قَالَ: رَجَعْنَا مِنْ جَنَازَةٍ فَمَرَرْنَا بِزَيْدِ بْنِ وَهْبٍ فَحَدَّثَ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَأَرَادَ الْمُؤَذِّنُ أَنْ يُؤَذِّنَ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ: لِلظُّهْرِ) فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَبْرِدْ)) قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، قَالَ: حَتَّى رَأَيْنَا فِي التُّلُولِ فَصَلَّى ثُمَّ قَالَ: ((إِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ، فَإِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

ابو الحسن مہاجرکہتے ہیں: ہم ایک جنازہ سے واپس آتے ہوئے زید بن وہب کے پاس سے گزرے، انھوں نے سیدنا ابو ذرؓ سے بیان کیا، انھوں نے کہا: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے، مؤذن نے نمازِ ظہر کے لیے اذان دینا چاہی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: ٹھنڈا کر۔ تین بار فرمایا، یہاں تک کہ ہمیں ٹیلوں کے سائے نظر آنے لگے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک سخت گرمی جہنم کی بھاپ میں سے ہے، اس لیے جب سخت گرمی پڑنے لگے تو نماز کو ٹھنڈا کیا کرو۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1122
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 539، 629، ومسلم: 616 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21441 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21772»