الفتح الربانی
كتاب الصلاة— نماز کی کتاب
بَابُ الرُّخْصَةِ فِي تَأْخِيرِ الظُّهْرِ وَالْإِيرَادِ بِهَا فِي زَمَنِ الْحَرِّ باب: گرمیوں کے موسم میں نمازِ ظہر کو مؤخر کرنے اور اس کو ٹھنڈا کر کے ادا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1119
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا كَانَ الْحَرُّ (وَفِي رِوَايَةٍ: إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ) فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ (وَفِي رِوَايَةٍ: بِالظُّهْرِ) فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ)) وَذَكَرَ: ((أَنَّ النَّارَ اشْتَكَتْ إِلَى رَبِّهَا فَأَذِنَ لَهَا فِي كُلِّ عَامٍ بِنَفَسَيْنِ نَفَسٌ فِي الشِّتَاءِ وَنَفَسٌ فِي الصَّيْفِ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب سخت گرمی ہو جائے تو نمازِ ظہر کو ٹھنڈا کر کے ادا کیا کرو، کیونکہ سخت گرمی جہنم کی بھاپ میں سے ہے۔ مزید فرمایا: آگ نے اپنے ربّ سے شکوہ کیا، پس اس نے اس کو ہر سال دو سانسوں کی اجازت دی، ایک سانس سردیوں میں اور ایک سانس گرمیوں میں۔