حدیث نمبر: 11153
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَ تَرَوْنَ هَذَا الشَّيْخَ يَعْنِي نَفْسَهُ كَلَّمْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَكَلْتُ مَعَهُ وَرَأَيْتُ الْعَلَامَةَ الَّتِي بَيْنَ كَتِفَيْهِ وَهِيَ فِي طَرَفِ نُغْضِ كَتِفِهِ الْيُسْرَى كَأَنَّهُ جُمْعٌ يَعْنِي الْكَفَّ الْمُجْتَمِعَ وَقَالَ بِيَدِهِ فَقَبَضَهَا عَلَيْهِ خِيلَانٌ كَهَيْئَةِ الثَّآلِيلِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔(دوسری سند) سیدنا عبداللہ بن سر جس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے اپنی ذات کو پیش کرتے ہوئے لوگوں سے کہا: آیا تم اس بزرگ کو دیکھ رہے ہو؟ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کلام کیا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ کھانا کھانے کا شرف حاصل کیا اور میں نے وہ علامت دیکھی، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کندھوں کے درمیان تھی، وہ آپ کی بائیں کندھے کی نرم ہڈی کے قریب بند مٹھی کی طرح تھی، ساتھ ہی انہوں نے مٹھی بند کرکے دکھلائی، اس پر تل تھے، جیسے چھوٹے چھوٹے سے ہوتے ہیں۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11153
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21051»