حدیث نمبر: 11152
عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَرْجِسَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلْتُ مَعَهُ مِنْ طَعَامِهِ فَقُلْتُ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقُلْتُ أَسْتَغْفِرُ لَكَ قَالَ شُعْبَةُ أَوْ قَالَ لَهُ رَجُلٌ قَالَ نَعَمْ وَلَكُمْ وَقَرَأَ {وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ} ثُمَّ نَظَرْتُ إِلَى نُغْضِ كَتِفِهِ الْأَيْمَنِ أَوْ كَتِفِهِ الْأَيْسَرِ شُعْبَةُ الَّذِي يَشُكُّ فَإِذَا هُوَ كَهَيْئَةِ الْجُمْعِ عَلَيْهِ الثَّآلِيلُ وَفِي رِوَايَةٍ وَرَأَيْتُ خَاتَمَ النُّبُوَّةِ فِي نُغْضِ كَتِفِهِ الْيُسْرَى كَأَنَّهُ جُمْعٌ فِيهَا خِيلَانٌ سُودٌ كَأَنَّهَا الثَّآلِيلُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عبداللہ بن سر جس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے آپ کے ساتھ کھانا کھایا اور پانی پیا، پھر میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ آپ کی مغفرت فرمائے۔ عاصم کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ سے دریافت کیا کہ کیااللہ کے رسول نے بھی تمہارے لیے مغفرت کی دعا کی تھی؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، آپ نے میرےلیے اور تم سب اہل ایمان کے لیے مغفرت کی دعا کی تھی،پھر اس آیت کی تلاوت کی: {وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِکَ وَلِلْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِنَاتِ} … اور آپ اپنے گناہوں کی معافی مانگیں اور جملہ اہل ایمان خواتین و حضرات کے لیے بھی مغفرت کی دعا کریں۔ (سورۂ محمد : ۱۹) پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دائیںیا بائیں کندھے (یہ شک شعبہ کو ہے) کی نرم ہڈی کو دیکھا، ایسے لگ رہا تھا کہ بند مٹھی کی طرح وہاں گوشت جمع ہو اور اس پر مسّے ہوں۔ایک روایت میں ہے: میں نے آپ کے بائیں کندھے کی نرم ہڈی کے قریب بند مٹھی کی مانند گوشت دیکھا، وہ مہر نبوت تھی اس پرکالے تل تھے، جیسے وہ مسّے ہوتے ہیں۔

وضاحت:
فوائد: … ثَآلَیْل: اس کی واحد ثُؤْلُوْل ہے، اس کے معانییہ ہیں: مسّہ، چنے کے برابر ٹھوس پھنسی، سرِ پستان
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11152
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2346 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20780 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21061»