حدیث نمبر: 1107
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا حَجَّاجٌ ثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَيَّارِ بْنِ سَلَامَةَ قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَأَبِي عَلَى أَبِي بَرْزَةَ فَسَأَلْنَاهُ عَنْ وَقْتِ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: كَانَ يُصَلِّي الظُّهْرَ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ وَالْعَصْرَ يَرْجِعُ الرَّجُلُ إِلَى أَقْصَى الْمَدِينَةِ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ، وَالْمَغْرِبَ قَالَ سَيَّارٌ: نَسِيتُهَا، وَالْعِشَاءَ لَا يُبَالِي بَعْضَ تَأْخِيرِهَا إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ وَكَانَ لَا يُحِبُّ النَّوْمَ قَبْلَهَا وَلَا الْحَدِيثَ بَعْدَهَا، وَكَانَ يُصَلِّي الصُّبْحَ فَيَنْصَرِفُ الرَّجُلُ فَيَعْرِفُ وَجْهَ جَلِيسِهِ وَكَانَ يَقْرَأُ فِيهَا مَا بَيْنَ السِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ، قَالَ سَيَّارٌ: لَا أَدْرِي فِي إِحْدَى الرَّكْعَتَيْنِ أَمْ فِي كِلْتَيْهِمَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری سند)سیار بن سلامہ کہتے ہیں: میں اور میرا باپ، سیدنا ابو برزہؓ کے پاس گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کے وقت کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازِ ظہر اس وقت ادا کرتے، جب سورج ڈھل جاتا تھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز عصر پڑھاتے، پھر ایک آدمی مدینہ سے دور واقع اپنے گھر میں جاتا، لیکن سورج ابھی تک زندہ ہوتا تھا، سیار کہتے ہیں: مغرب سے متعلقہ بات کو میں بھول گیا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازِ عشا کو ایک تہائی رات تک مؤخر کرنے میں کوئی پرواہ نہ کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اِس نماز سے پہلے نیند اور اِس کے بعد گفتگو کو ناپسند کرتے تھے، اور آپ صبح کی نماز پڑھاتے پھر آدمی واپس پلٹتا تو وہ اپنے ساتھی کے چہرے کو پہچان لیتا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اِس نماز میں ساٹھ سے سو آیات کی تلاوت کرتے تھے۔ سیار کہتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ تلاوت کی یہ مقدار ایک رکعت میں ہوتی تھی یا دو میں۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1107
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20049»