حدیث نمبر: 1104
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: الظُّهْرُ كَأَسْمِهَا وَالْعَصْرُ بَيْضَاءُ حَيَّةٌ وَالْمَغْرِبَ كَأَسْمِهَا وَكُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ ثُمَّ نَأْتِي مَنَازِلَنَا وَهِيَ عَلَى قَدْرِ مِيلٍ فَنَرَى مَوَاقِعَ النَّبْلِ وَكَانَ يُعَجِّلُ الْعِشَاءَ وَيُؤَخِّرُ، الْفَجْرُ كَأَسْمِهَا وَكَانَ يُغَلِّسُ بِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ظہر اپنے نام کی طرح ہے، عصر اس وقت پڑھی جائے گی، جب سورج سفید اور زندہ ہو گا، مغرب اپنے نام کی طرح ہے اور جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نمازِمغرب پڑھ کر اپنے گھروں کو آتے، جبکہ ہمارے گھر ایک ایک میل کے فاصلے پر ہوتے تھے، تو ہم تیر کے گرنے کی جگہ دیکھ لیتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کبھی نمازِ عشا جلدی پڑھ لیتے تھے اور کبھی تاخیر کرتے تھے اور فجر بھی اپنے نام کی طرح ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو روشنی ملے اندھیرے میں پڑھتے تھے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1104
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن۔ أخرجه عبدالرزاق: 2056، وابويعلي: 2048 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14246 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14296»