الفتح الربانی
أهم أحداث السنة السابعة للهجرة— سنہ (۷) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ زواجِهِ بِمَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَرِثِ خَالَةِ ابْنِ عباس رضي الله عنهما باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خالہ اُمّ المؤمنین سیّدہ میمونہ بنت حارث سے شادی کا بیان
عَنْ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ كُنْتُ فِي بَعْثٍ مَرَّةً فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ {اذْهَبْ فَأْتِنِي بِمَيْمُونَةَ} فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي فِي الْبَعْثِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ {أَلَسْتَ تُحِبُّ مَا أُحِبُّ} قَالَ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ {اذْهَبْ فَأْتِنِي بِهَا} فَذَهَبْتُ فَجِئْتُ بِهَامولائے رسول سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک دفعہ ایک دستے میں میرے نام کا بھی اندراج کیا گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم جا کر میمونہ کو لے آؤ۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! میرا نام تو فلاں دستے میں لکھا جا چکا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں وہ کام پسند نہیں، جو مجھے پسند ہے؟ میں نے عرض کیا: جی بالکل، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تم جا کر میمونہ کو میرے پاس لے کر آؤ۔ چنانچہ میں گیا اور ان کو لے آیا۔