الفتح الربانی
أهم أحداث السنة السابعة للهجرة— سنہ (۷) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ مَا جَاءَ فِي ذِكْرِ عُمْرَةِ الْقَضَاءِ وَزَوَاجِهِ صلَّى اللهُ عَليهِ وسَلمَ بِمَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَرِثِ رضي الله عنها باب: عمرۂ قضاء اور اُمّ المؤمنین سیّدہ میمونہ بنت حارث کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شادی کا بیان
حدیث نمبر: 10835
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا دَخَلَ مَكَّةَ فِي عُمْرَةِ الْقَضَاءِ أَتَوْا عَلِيًّا فَقَالُوا قُلْ لِصَاحِبِكَ فَلْيَخْرُجْ عَنَّا فَقَدْ مَضَى الْأَجَلُ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عمرۂ قضاء کے موقع پر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ مکرمہ تشریف لائے تو ( مقرر وقت گزرنے پر ) قریشِ مکہ نے سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کو آکر کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ساتھی سے کہیں کہ مقرر وقت ختم ہو چکا ہے، لہٰذا وہ یہاں سے روانہ ہو جائیں، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ مکرمہ سے روانہ ہو گئے۔
وضاحت:
فوائد: … صلح حدیبیہ میں یہ طے ہوا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تین دن مکہ میں ٹھہر سکیں گے، اس لیے مشرکین مکہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نکل جانے کا مطالبہ کیا۔