الفتح الربانی
أهم أحداث السنة السابعة للهجرة— سنہ (۷) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ مَا جَاءَ فِي ذِكْرِ عُمْرَةِ الْقَضَاءِ وَزَوَاجِهِ صلَّى اللهُ عَليهِ وسَلمَ بِمَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَرِثِ رضي الله عنها باب: عمرۂ قضاء اور اُمّ المؤمنین سیّدہ میمونہ بنت حارث کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شادی کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ اعْتَمَرَ فَطَافَ وَطُفْنَا مَعَهُ وَصَلَّى وَصَلَّيْنَا مَعَهُ وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَكُنَّا نَسْتُرُهُ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ لَا يُصِيبُهُ أَحَدٌ بِشَيْءٍ زَادَ فِي رِوَايَةٍ قَالَ فَسَمِعْتُهُ يَدْعُو عَلَى الْأَحْزَابِ يَقُولُ {اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ سَرِيعَ الْحِسَابِ هَازِمَ الْأَحْزَابِ اللَّهُمَّ اهْزِمْهُمْ وَزَلْزِلْهُمْ}عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب عمرہ ادا کیا تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طواف کیا تو ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ طواف کیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازادا کی تو ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صفا اور مروہ کے مابین سعی کی تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سعی کی، ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارد گردرہ کر اہل مکہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دفاع کر رہے تھے، تاکہ اہل مکہ میں سے کوئی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تکلیف نہ پہنچا دے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اسلام دشمن جماعتوں کے خلاف یہ دعا کرتے سنا: اَللّٰھُمَّ مُنْزِلَ الْکِتَابِ سَرِیْعَ الْحِسَابِ ھَازِمَ الْاَحْزَابِ، اَللّٰہُمَّ اھْزِمْہُمْ وَزَلْزِلْھُمْ ( اے اللہ! کتاب نازل کرنے والے، جلد حساب لینے والے، تمام جماعتوں کو شکست سے دو چار کرنے والے، یا اللہ انہیں شکست سے دو چار کر اور ان کو جھنجھوڑ کر رکھ دے۔ )