حدیث نمبر: 10833
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مُعْتَمِرًا فَحَالَ كُفَّارُ قُرَيْشٍ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ فَنَحَرَ هَدْيَهُ وَحَلَقَ رَأْسَهُ بِالْحُدَيْبِيَةِ فَصَالَحَهُمْ عَلَى أَنْ يَعْتَمِرُوا الْعَامَ الْمُقْبِلَ وَلَا يَحْمِلَ السِّلَاحَ عَلَيْهِمْ وَقَالَ سُرَيْجٌ وَلَا يَحْمِلَ سِلَاحًا إِلَّا سُيُوفًا وَلَا يُقِيمَ بِهَا إِلَّا مَا أَحَبُّوا فَاعْتَمَرَ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فَدَخَلَهَا كَمَا كَانَ صَالَحَهُمْ فَلَمَّا أَنْ أَقَامَ ثَلَاثًا أَمَرُوهُ أَنْ يَخْرُجَ فَخَرَجَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عمرہ کے ارادہ سے روانہ ہوئے تو کفار قریش آپ کے اور بیت اللہ کے درمیان حائل ہو گئے آپ نے وہیں حدیبیہ کے مقام پر اپنے قربانی کے اونٹوں کو نحر کیا۔ سر منڈوایا اور ان سے معاہدہ کیا جس میں طے ہوا کہ آپ آئندہ سال آکر عمرہ کریں گے اور قریش مکہ کے خلاف ہتھیار نہ اُٹھائیں گے۔ مسلمانوں کے پاس صرف تلواریں ہو گی اور وہ مکہ میں صرف اتنے دن گزار سکیں گے جن کی قریش اجازت دیں گے چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اگلے سال آکر عمرہ اداکیا۔ اور حسبِ معاہدہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے۔ جب تین دن گزر گئے تو قریش نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روانگی کا مطالبہ کیا، سو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں سے چلے آئے۔

وضاحت:
فوائد: … اس عمرہ کو عمرۂ قضیہ، عمرۂ صلح اور عمرۂ قصاص بھی کہتے ہیں، عمرۂ قضاء کی وجہ تسمیہیہ ہے کہ یہ عمرہ اس فیصلے کے مطابق تھا، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حدیبیہ کے مقام مشرکوں کے ساتھ کیا تھا، اس سے مراد قضائی والا عمرہ نہیں ہے، کیونکہ جس کو راستے میں روک دیا جائے، اس پر قضائی واجب نہیں ہوتی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة السابعة للهجرة / حدیث: 10833
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2701 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6067 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6067»