الفتح الربانی
أهم أحداث السنة السابعة للهجرة— سنہ (۷) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ مَا جَاءَ فِي قُدُومِ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي رَهْطٍ مِنْ قَوْمِهِ وَقَدُوْمِ أَبِي مُوسَى الْاشْعَرِی وَمَنْ مَعَهُ مِنْ مهَاجِرِى الْحَبشَةِ وَالنَّبِي ﷺ بِخَير باب: اس امر کا بیان کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اپنی قوم کے ایک وفد کے ہمراہ اور سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اور ان کے مہاجرین حبشہ ساتھی ان دنوں تشریف لائے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خیبر میں تشریف فرما تھے
حدیث نمبر: 10830
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ مِنْ خَيْبَرَ فَلَمَّا رَأَى أُحُدًا قَالَ هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ فَلَمَّا أَشْرَفَ عَلَى الْمَدِينَةِ قَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا كَمَا حَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خیبر سے واپس ہوئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احد پہاڑ کو دیکھا تو فرمایا: یہ پہاڑ ہے، یہ ہم سے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔ پھرجب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو فرمایا: یا اللہ! جس طرح ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم والا قرار دیا تھا، اسی طرح میںبھی مدینہ منورہ کے دو حرّوں کے درمیان والے حصے کو حرم قرار دیتا ہوں۔