الفتح الربانی
أهم أحداث السنة السابعة للهجرة— سنہ (۷) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ مَا جَاءَ فِي قُدُومِ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي رَهْطٍ مِنْ قَوْمِهِ وَقَدُوْمِ أَبِي مُوسَى الْاشْعَرِی وَمَنْ مَعَهُ مِنْ مهَاجِرِى الْحَبشَةِ وَالنَّبِي ﷺ بِخَير باب: اس امر کا بیان کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اپنی قوم کے ایک وفد کے ہمراہ اور سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اور ان کے مہاجرین حبشہ ساتھی ان دنوں تشریف لائے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خیبر میں تشریف فرما تھے
حدیث نمبر: 10829
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي نَاسٍ مِنْ قَوْمِي بَعْدَ مَا فُتِحَ خَيْبَرُ بِثَلَاثٍ فَأَسْهَمَ لَنَا وَلَمْ يَقْسِمْ لِأَحَدٍ لَمْ يَشْهَدِ الْفَتْحَ غَيْرَنَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں اپنی قوم کے لوگوں کے ہمراہ فتح خیبر سے تین دن بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہنچا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیںمالِ غنیمت میں سے حصہ دیا، خیبر کی غنیمتوں کو صرف اہلِ حدیبیہ میں تقسیم کیا گیا تھا، صرف ہم ہی لوگ تھے جن کو حدیبیہ میں شریک نہ ہونے کے باوجود خیبر کی غنائم سے حصہ ملا۔