حدیث نمبر: 10828
عَنْ خُثَيْمٍ يَعْنِي ابْنَ عِرَاكٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ فِي رَهْطٍ مِنْ قَوْمِهِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِخَيْبَرَ وَقَدِ اسْتَخْلَفَ سِبَاعَ بْنَ عُرْفُطَةَ عَلَى الْمَدِينَةِ قَالَ فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى بِكهيعص [مريم: 1] وَفِي الثَّانِيَةِ وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ [المطففين: 1] قَالَ فَقُلْتُ لِنَفْسِي وَيْلٌ لِفُلَانٍ إِذَا اكْتَالَ اكْتَالَ بِالْوَافِي وَإِذَا كَالَ كَالَ بِالنَّاقِصِ قَالَ فَلَمَّا صَلَّى زَوَّدَنَا شَيْئًا حَتَّى أَتَيْنَا خَيْبَرَ وَقَدِ افْتَتَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ قَالَ فَكَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمُسْلِمِينَ فَأَشْرَكُونَا فِي سِهَامِهِمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

عراک سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اپنی قوم کی ایک جماعت کے ساتھ ان دنوں مدینہ منورہ پہنچے تھے، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوۂ خیبر میں مصروف تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا سباع بن عرفطہ رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ میں اپنا نائب مقرر کیا تھا۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں ان کے ہاں پہنچا تو وہ صبح کی نماز کی پہلی رکعت میں کٰھٰیٰعٓصٓ (یعنی سورۂ مریم) اور دوسری رکعت میں وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَ سورت کی تلاوت کر رہے تھے۔ میں نے اپنے دل میں کہا کہ فلاں آدمی تباہ ہو گیا، وہ جب اپنے لیے تولتا ہے تو پورا تول لیتا ہے اور جب کسی کے لیے تولتا ہے تو کم کر دیتا ہے،وہ جب نماز سے فارغ ہوئے تو انہوں نے ہمیں کچھ زادِ سفر دیا، اور ہم خیبر کے لیے روانہ ہو گئے، یہاں تک کہ ہم خیبر پہنچ گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمانوں سے ہمارے بارے میں بات کی اور انہوں نے مالِ غنیمت کے اپنے حصوں میں ہمیں بھی شریک کر لیا۔

وضاحت:
فوائد: … انھوں نے ہمیں اپنے حصوں میں شریک کیا۔
ان الفاظ کا مفہوم مشہور روایت کے مخالف ہے، مشہور روایتیہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل سفینہ کو شریک کیا تھا۔
اہلِ سفینہ سے مراد سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھ والے وہ لوگ تھے، جو حبشہ میں تھے، جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے: سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اس وقت پہنچے جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خیبر فتح کر چکے تھے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے لیے بھی مالِ غنیمتتقسیم کیا اور ہمارے علاوہ فتح میں شریک نہ ہونے والے کسی آدمی کو مال غنیمت نہیں دیا۔ (اگلی حدیثیہی ہے، سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ، سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے)۔
تو پھر سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے اس قول کا کیا مطلب ہوا کہ انھوں نے ہمیں بھی اپنے حصوں میں شریک کیا؟
حافظ ابن حجر نے کہا: سیدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ کی حدیث کا پس منظر یہ ہو گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غنیمت حاصل کرنے والے مجاہدین سے رضامندی لیے بغیر اصحاب ِ سفینہ کو مال غنیمت میں شریک کیا اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کو حصہ دینے کے لیے مسلمانوں سے اجازت لی ہو گی۔ واللہ اعلم۔ (تلخیص از فتح الباری: ۷/ ۴۸۹)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة السابعة للهجرة / حدیث: 10828
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه ابن خزيمة: 1039، والحاكم: 2/ 33 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8552 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8533»