الفتح الربانی
أهم أحداث السنة السابعة للهجرة— سنہ (۷) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ مَا جَاءَ فِي تَقْسِيمِ أَمْوَالِ خَيْرَ وَأَرْضِهَا بَيْنَهُم وَبَيْنَ الْمُسْلِمِينَ باب: خیبر کے اموال اور زمینوں کییہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان تقسیم کا بیان
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ قَالَ بَعَثَنِي أَهْلُ الْمَسْجِدِ إِلَى ابْنِ أَبِي أَوْفَى أَسْأَلُهُ مَا صَنَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي طَعَامِ خَيْبَرَ فَأَتَيْتُهُ فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ قَالَ وَقُلْتُ هَلْ خُمُسُهُ قَالَ لَا كَانَ أَقَلَّ مِنْ ذَلِكَ وَكَانَ أَحَدُنَا إِذَا أَرَادَ مِنْهُ شَيْئًا أَخَذَ مِنْهُ حَاجَتَهُمحمد بن ابی مجالد سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: مسجد میں بیٹھے ہوئے لوگوں نے مجھے سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بھیجا کہ ان سے پوچھ کر آؤں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر کے پھلوں کے متعلق کیا فیصلہ فرمایا تھا، میں نے ان کی خدمت میں جا کر یہ بات ان سے دریافت کی اور میں نے یہ بھی پوچھا کہ آیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا خمس(پانچواں حصہ) الگ کیا تھا، انہوں نے کہا : جی نہیں، وہ تو اس سے بہت کم تھا، ہم میں سے کوئی بھی آدمی جب چاہتا حسبِ ضرورت اس میں سے لے سکتا تھا۔