الفتح الربانی
أهم أحداث السنة السابعة للهجرة— سنہ (۷) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ مَا جَاءَ فِي تَقْسِيمِ أَمْوَالِ خَيْرَ وَأَرْضِهَا بَيْنَهُم وَبَيْنَ الْمُسْلِمِينَ باب: خیبر کے اموال اور زمینوں کییہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان تقسیم کا بیان
عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ رِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَدْرَكَهُمْ يَذْكُرُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ ظَهَرَ عَلَى خَيْبَرَ وَصَارَتْ خَيْبَرُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالْمُسْلِمِينَ ضَعُفُوا عَنْ عَمَلِهَا فَدَفَعُوهَا إِلَى الْيَهُودِ يَقُومُونَ عَلَيْهَا وَيُنْفِقُونَ عَلَيْهَا عَلَى أَنَّ لَهُمْ نِصْفَ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا فَقَسَمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى سِتَّةٍ وَثَلَاثِينَ سَهْمًا جَمَعَ كُلُّ سَهْمٍ مِائَةَ سَهْمٍ فَجَعَلَ نِصْفَ ذَلِكَ كُلِّهِ لِلْمُسْلِمِينَ وَكَانَ فِي ذَلِكَ النِّصْفِ سِهَامُ الْمُسْلِمِينَ وَسَهْمُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَعَهَا وَجَعَلَ النِّصْفَ الْآخَرَ لِمَنْ يَنْزِلُ بِهِ مِنَ الْوُفُودِ وَالْأُمُورِ وَنَوَائِبِ النَّاسِبُشیر بن یسار سے مروی ہے کہ انھوں نے اصحاب ِ رسول میں سے بعض افراد کو اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے پایا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر کو فتح کر لیا اور خیبر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مسلمانوں کی ملکیت ہو گیا، جبکہ مسلمان اس سرزمین کا سارا کام کاج کرنے سے عاجز تھے، تو انھوں نے اس کو یہودیوں کے ہی سپرد کر دیا کہ وہی اس کی ذمہ داری ادا کریں گے اور اس پر خرچ کریں گے، اس کے عوض ان کو نصف پیداوار ملے گی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے، اس کو چھتیس حصوں پر تقسیم کیا، ہر حصہ سو حصوں پر مشتمل تھا، خیبر کی زمین سے جو حصہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ملتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے نصف کو مسلمانوں میں اس طرح تقسیم کر دیتے تھے کہ اس میں مسلمانوں کے حصے بھی ہوتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حصہ بھی، باقی نصف کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفود، دوسرے امور اور لوگوں کے دوسرے حوادث و مہمات میں خرچ کرتے تھے۔