الفتح الربانی
أهم أحداث السنة السابعة للهجرة— سنہ (۷) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ مَا جَاءَ فِي تَقْسِيمِ أَمْوَالِ خَيْرَ وَأَرْضِهَا بَيْنَهُم وَبَيْنَ الْمُسْلِمِينَ باب: خیبر کے اموال اور زمینوں کییہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان تقسیم کا بیان
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ قَالَ أَفَاءَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ خَيْبَرَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَقَرَّهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَمَا كَانُوا وَجَعَلَهَا بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ فَبَعَثَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ فَخَرَصَهَا عَلَيْهِمْ ثُمَّ قَالَ لَهُمْ يَا مَعْشَرَ الْيَهُودِ أَنْتُمْ أَبْغَضُ الْخَلْقِ إِلَيَّ قَتَلْتُمْ أَنْبِيَاءَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَكَذَبْتُمْ عَلَى اللَّهِ وَلَيْسَ يَحْمِلُنِي بُغْضِي إِيَّاكُمْ عَلَى أَنْ أَحِيفَ عَلَيْكُمْ قَدْ خَرَصْتُ عِشْرِينَ أَلْفَ وَسْقٍ مِنْ تَمْرٍ فَإِنْ شِئْتُمْ فَلَكُمْ وَإِنْ أَبَيْتُمْ فَلِي فَقَالُوا بِهَذَا قَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ قَدْ أَخَذْنَا فَاخْرُجُوا عَنَّاسیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خیبر کا علاقہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عطا فرما دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہودیوں کو وہاں حسب سابق آباد رہنے کی اجازت مرحمت فرمائی، اور وہاں کی زمین کو یہودیوں اور مسلمانوں میں تقسیم کر دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو وہاں بھیجا، انہوں نے وہاں جا کر باغات کے پھلوں کا تخمینہ لگایا اور کہا: اے یہودیو! تم میری نظر میں اللہ کی سب سے زیادہ نا پسندیدہ مخلوق ہو، تم نے اللہ کے نبیوں کو قتل کیا اور اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بھی باندھے، لیکن اس قدر بُغض کے باوجود میں تم پر ظلم وزیادتی نہیں کروں گا، اب میں نے بیس ہزار وسق کھجور کا تخمینہ لگایا ہے، اگر تم چاہو تو اپنے لیے اس فیصلہ کو قبول کر لو، اگر تمہیںیہ منظور نہ ہو تو میں قبول کر لیتا ہوں، یہودیوں نے کہا: اسی عدل کی بدولت تو زمین وآسمان قائم ہیں، ہم آپ کے تخمینہ کو قبول کرتے ہیں، آپ اس سے الگ رہیں۔