الفتح الربانی
أهم أحداث السنة السابعة للهجرة— سنہ (۷) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ إِجْلَاءِ مَنْ بَقِيَ مِنَ الْيَهُودِ بِالْمَدِينَةِ وَإِبْقَائِهِمْ بخيبر بعد فتحها مُوَفَّنَا لِلْمَصْلَحَةِ باب: مدینہ منورہ میں باقی بچے ہوئے یہودیوں کی جلاوطنی اور فتح خیبر کے بعد بطور مصلحت کچھ عرصہ تک ان کو وہاں قیام کی اجازت دینے کا بیان
عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَجْلَى الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى مِنْ أَرْضِ الْحِجَازِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا ظَهَرَ عَلَى خَيْبَرَ أَرَادَ إِخْرَاجَ الْيَهُودِ مِنْهَا وَكَانَتْ الْأَرْضُ حِينَ ظَهَرَ عَلَيْهَا لِلَّهِ تَعَالَى وَلِرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلِلْمُسْلِمِينَ فَأَرَادَ إِخْرَاجَ الْيَهُودِ مِنْهَا فَسَأَلَتِ الْيَهُودُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقِرَّهُمْ بِهَا عَلَى أَنْ يَكْفُوا عَمَلَهَا وَلَهُمْ نِصْفُ الثَّمَرِ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نُقِرُّكُمْ بِهَا عَلَى ذَلِكَ مَا شِئْنَا فَقَرُّوا بِهَا حَتَّى أَجْلَاهُمْ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى تَيْمَاءَ وَأَرِيحَاءَسیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نےیہود و نصاریٰ کو ارضِ حجاز سے جلا وطن کر دیا تھا، اصل واقعہ یوں ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر پر غلبہ حاصل کر لیا تو یہودیوں کو وہاں سے جلا وطن کرنے کا ارادہ فرمایا،کیونکہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس علاقہ پر قابض ہوئے تو وہ سر زمین اللہ تعالیٰ،اس کے رسول اور مسلمانوں کی ملکیت ہو گئی، بہرحال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہود کو وہاں سے نکالنے اور جلا وطن کرنے کا ارادہ فرمایا، لیکن انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ ان کو وہیں قیام کرنے کی اجازت دے دیں، زمینوں اور باغات کے سارے کام اور خدمات یہودی سرانجام دیتے رہیں گے اور اس کے عوض ان کو نصف پھل ملے گا، باقی نصف مسلمانوں کا ہو گا۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم جب تک چاہیں گے، تمہیںیہاں رہنے کی اجازت ہو گی۔ پھر وہ لوگ وہیں مقیم رہے، یہاں تک کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو تیماء اور اریحاء کی طرف جلاوطن کر دیا۔