الفتح الربانی
أهم أحداث السنة السابعة للهجرة— سنہ (۷) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ إِجْلَاءِ مَنْ بَقِيَ مِنَ الْيَهُودِ بِالْمَدِينَةِ وَإِبْقَائِهِمْ بخيبر بعد فتحها مُوَفَّنَا لِلْمَصْلَحَةِ باب: مدینہ منورہ میں باقی بچے ہوئے یہودیوں کی جلاوطنی اور فتح خیبر کے بعد بطور مصلحت کچھ عرصہ تک ان کو وہاں قیام کی اجازت دینے کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ انْطَلِقُوا إِلَى يَهُودَ فَخَرَجْنَا مَعَهُ حَتَّى جِئْنَا بَيْتَ الْمِدْرَاسِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنَادَاهُمْ يَا مَعْشَرَ الْيَهُودِ أَسْلِمُوا تَسْلَمُوا فَقَالُوا قَدْ بَلَّغْتَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ قَالَ ذَاكَ أُرِيدُ ثُمَّ قَالَهَا الثَّالِثَةَ فَقَالَ اعْلَمُوا أَنَّ الْأَرْضَ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ وَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُجْلِيَكُمْ مِنْ هَذِهِ الْأَرْضِ فَمَنْ وَجَدَ مِنْكُمْ بِمَالِهِ شَيْئًا فَلْيَبِعْهُ وَإِلَّا فَاعْلَمُوا أَنَّ الْأَرْضَ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولِهِسیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دفعہ ہم مسجد میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے اور فرمایا: چلو،یہودیوں کی طرف چلتے ہیں۔ پس ہم آپ کے ساتھ چلے اور ان کے بیت المدراس میں پہنچ گئے،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں کھڑے ہوئے اور ان یہودیوں سے فرمایا: اے یہودیو! اسلام قبول کر لو، سلامتی پا جاؤ گے۔ انھوں نے کہا: اے ابو القاسم! آپ نے اپنی بات ہم تک پہنچا دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں بھییہی چاہتا ہوں کہ تم اس بات کا اعتراف کرو کہ میں نے واقعی اپنی بات تم لوگوں تک پہنچا دی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تیسری مرتبہ فرمایا: یاد رکھو کہیہ زمین اللہ کی اور اس کے رسول کی ملکیت ہے اور میں تمہیں اس سر زمین سے جلا وطن کرنا چاہتا ہوں، پس تم میں سے جو کوئی اپنا مال فروخت کر سکتا ہے، فروخت کر لے، ورنہ یاد رکھو کہ یہ سر زمین اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی ملکیت ہے۔
اےیہودیو! اسلام قبول کر لو، سلامتی پا جاؤ گے۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جامع کلمات میں سے ہے، لیکن جب ملعون اور موٹی عقل والے یہودیوں نے سمجھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصود اسلام کی دعوت دینا ہے اور انھوں نے اس جملے کو ناپسند کیا، اس لیے انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا کہ آپ نے اپنی بات ہم تک پہنچا دی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوری وضاحت کر دی۔