الفتح الربانی
أهم أحداث السنة السابعة للهجرة— سنہ (۷) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ خَيْرِ الشَّاةِ الْمَسْمُوْمَةِ الَّتِي أَهْدَاهَا الْيَهُودُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم لِيَأْكُلَ مِنْهَا وَظُهُورٍ مُعْجِزَةٍ لَهُ باب: اس زہر آلود بکری کا واقعہ جو یہود نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں کھانے کے لیے بھیجی تھی اور اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معجزہ کا ظہور
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ امْرَأَةً مِنَ الْيَهُودِ أَهْدَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَاةً مَسْمُومَةً فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا فَقَالَ مَا حَمَلَكِ عَلَى مَا صَنَعْتِ قَالَتْ أَحْبَبْتُ أَوْ أَرَدْتُ إِنْ كُنْتَ نَبِيًّا فَإِنَّ اللَّهَ سَيُطْلِعُكَ عَلَيْهِ وَإِنْ لَمْ تَكُنْ نَبِيًّا أُرِيحُ النَّاسَ مِنْكَ قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا وَجَدَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا احْتَجَمَ قَالَ فَسَافَرَ مَرَّةً فَلَمَّا أَحْرَمَ وَجَدَ مِنْ ذَلِكَ فَاحْتَجَمَسیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی عورت نے ایک زہریلی بکری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بطور ہدیہ پیش کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علم ہونے پر اسے پیغام بھیج کر بلوایا اور دریافت فرمایا: تجھے اس حرکت پر کس چیز نے آمادہ کیا؟ اس نے کہا: میں نے ارادہ کیا تھا کہ اگر آپ سچے نبی ہیں تو اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کے بارے میں مطلع کر دے گا اور اگر آپ سچے نبی نہیں ہیں تو اس طرح میں لوگوں کو آپ سے راحت دلا دوں گی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بعد میں جب بھی اس زہر کا اثر محسوس کرتے تو سینگی لگوا لیتے، ایک دفعہ آپ سفر میںتھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احرام باندھا تو اس زہر کا اثر محسوس ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سینگی لگوالی۔