الفتح الربانی
أهم أحداث السنة السابعة للهجرة— سنہ (۷) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ مَا جَاءَ فِي مَقْتَل مَرْحَبِ الْيَهُودِئُ بَطْلٍ يَهُودِ وَمَنْ قَتَلَهُ وَفِيهِ مُعْجِزَةٌ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَمَنقَبَةٌ عَظِيمَةٌ لِلإِمَامِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رضي الله عنه وَكَرَّمَ اللَّهُ وَجْهَهُ باب: یہود کے پہلوان مرحب یہودی کے قتل اور اس کے قاتل کا بیان اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معجزہ¤اور سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ وَکَرَّمَ اللّٰہُ وَجْہَہٗکی منقبت کا بیان
حدیث نمبر: 10817
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ كُنَّا مُحَاصِرِينَ قَصْرَ خَيْبَرَ فَأَلْقَى إِلَيْنَا رَجُلٌ جِرَابًا فِيهِ شَحْمٌ فَذَهَبْتُ آخُذُهُ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَحْيَيْتُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم خیبر کا محاصرہ کئے ہوئے تھے کہ ایک آدمی نے چربی سے بھرا مشکیزہ ہماری طرف پھینکا، میں اسے اُٹھانے لگا، لیکن جب میری نگاہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پڑی تو میں شرما گیا۔
وضاحت:
فوائد: … شرمانے کی وجہ یہ تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کی حرص کا علم ہو گیا۔