حدیث نمبر: 10816
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ خَرَجَ مَرْحَبٌ الْيَهُودِيُّ مِنْ حِصْنِهِمْ قَدْ جَمَعَ سِلَاحَهُ يَرْتَجِزُ وَيَقُولُ قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّي مَرْحَبُ شَاكِي السِّلَاحِ بَطَلٌ مُجَرَّبُ أَطْعَنُ أَحْيَانًا وَحِينًا أَضْرِبُ إِذَا اللُّيُوثُ أَقْبَلَتْ تَلَهَّبُ كَانَ حِمَايَ لَحْمِي لَا يُقْرَبُ وَهُوَ يَقُولُ مَنْ مُبَارِزٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ لِهَذَا فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ أَنَا لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَنَا وَاللَّهِ الْمَوْتُورُ الثَّائِرُ قَتَلُوا أَخِي بِالْأَمْسِ قَالَ فَقُمْ إِلَيْهِ اللَّهُمَّ أَعِنْهُ عَلَيْهِ فَلَمَّا دَنَا أَحَدُهُمَا مِنْ صَاحِبِهِ دَخَلَتْ بَيْنَهُمَا شَجَرَةٌ عُمْرِيَّةٌ مِنْ شَجَرِ الْعُشَرِ فَجَعَلَ أَحَدُهُمَا يَلُوذُ بِهَا مِنْ صَاحِبِهِ كُلَّمَا لَاذَ بِهَا مِنْهُ اقْتَطَعَ بِسَيْفِهِ مَا دُونَهُ حَتَّى بَرَزَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا لِصَاحِبِهِ وَصَارَتْ بَيْنَهُمَا كَالرَّجُلِ الْقَائِمِ مَا فِيهَا فَنَنٌ ثُمَّ حَمَلَ مَرْحَبٌ عَلَى مُحَمَّدٍ فَضَرَبَهُ فَاتَّقَى بِالدَّرَقَةِ فَوَقَعَ سَيْفُهُ فِيهَا فَعَضَّتْ بِهِ فَأَمْسَكَتْهُ وَضَرَبَهُ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ حَتَّى قَتَلَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مرحب یہودی ہتھیاروں سے مسلح ہو کر یہ رجز پڑھتا ہوا قلعہ سے باہر آیا: فَقَدْ عَلِمَتْ خَیْبَرُ أَنِّیْ مَرْحَبٗ
شَاکِیْ السَّلَاحِ بَطَلٌ مُجَرَّبٗ
أَطْعَنُ أَحْیَانًا وَحِینًا أَضْرِبُ
إِذَا الْحُرُوْبُ أَقْبَلَتْ تَلَھَّبٗ
کَانَ حِمَایَ لَحِمًی لَا یُقْرَبُ
خیبر بخوبی جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں۔ ہتھیار بندہوں، سورماہوں اور منجھا ہوا ہوں۔ میں کبھی نیزہ مارتا ہوں تو کبھی ضرب لگاتا ہوں۔ جب لڑائیاں بھڑک اٹھتی ہیں تو میں متوجہ ہوتا ہوں۔
میرا دفاع ایسے لوگوں کے لیے ہے جو میرے قریب بھی نہیں پھٹکتے
اور وہ چیلنج دیتا آرہا تھا کہ ہے کوئی میرا مدمقابل جو سامنے آئے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے مقابلے میں کون جائے گا؟ سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اس کے مقابلہ میں جا نے کے لیے تیار ہوں۔ اللہ کی قسم! میں ان سے بدلہ لینے کا خواہش مند ہوں، کیوں کہ انہوں نے کل میرے بھائی کو قتل کر دیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تم ہی اُٹھو، یا اللہ ! اُس کے مقابلے میں اس کی مدد فرما۔ جب وہ دونوں ایک دوسرے کے قریب ہوئے تو گونددار ایک بہت پرانا اور بڑا درخت ان کے درمیان حائل ہو گیا، ان میں سے ہر ایک دوسرے کے وارسے بچنے کے لیے درخت کی اوٹ میں ہو جاتا، جب ان میں سے ایک درخت کی اوٹ میں ہوتا تو دوسرا اپنی تلوار چلا کر اس درخت (کی شاخوں کو) کاٹ دیتا،یہاں تک کہ وہ ایک دوسرے کے سامنے آگئے
اور وہ درخت ان دونوں کے درمیانیوں ہو گیا جیسے کوئی آدمی کھڑا ہو اور اس درخت پر کوئی شاخ نہ تھی۔ پھر مرحب، محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ پر حملہ آور ہوا اور اس نے تلوار چلائی، سیدنا محمد رضی اللہ عنہ نے ڈھال سے وار کو روکا اور مرحب کی تلوار ان کی ڈھال پر جا لگی اور اس میں دھنس کر رہ گئی پھر محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے اس پر وار کر کے اسے قتل کر دیا۔

وضاحت:
فوائد: … اس روایت سے معلوم ہوا کہ سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے مرحب کو قتل کیا، جبکہ سابقہ روایات کے مطابق اس کو قتل کرنے والے سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہیں، جمع و تطبیق کے لیے مختلف آراء پیش کی گئی ہیں، ابن اثیر نے کہا کہ اکثر سیرت نگاروں کے نزدیک مرحب کو قتل کرنے والے سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہیں، جبکہ محمد بن اسحاق نے کہا کہ سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے خیبر میں مرحب یہودی کو قتل کیا۔
بہتریہ ہے کہ ان روایات کو اس طرح جمع کیا جائے کہ سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے مرحب کی ٹانگیں کاٹیں اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کو جلدی سے قتل کر دیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة السابعة للهجرة / حدیث: 10816
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن أخرجه ابويعلي: 1861، والبيھقي: 9/ 131 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15134 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15201»