الفتح الربانی
أهم أحداث السنة السابعة للهجرة— سنہ (۷) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ مَا جَاءَ فِي مَقْتَل مَرْحَبِ الْيَهُودِئُ بَطْلٍ يَهُودِ وَمَنْ قَتَلَهُ وَفِيهِ مُعْجِزَةٌ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَمَنقَبَةٌ عَظِيمَةٌ لِلإِمَامِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رضي الله عنه وَكَرَّمَ اللَّهُ وَجْهَهُ باب: یہود کے پہلوان مرحب یہودی کے قتل اور اس کے قاتل کا بیان اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معجزہ¤اور سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ وَکَرَّمَ اللّٰہُ وَجْہَہٗکی منقبت کا بیان
حدیث نمبر: 10815
عَنْ عَلِيٍّ قَالَ لَمَّا قَتَلْتُ مَرْحَبًا جِئْتُ بِرَأْسِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب میں نے مرحب کو قتل کیا تو میں اس کا سر لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا۔