الفتح الربانی
أهم أحداث السنة السابعة للهجرة— سنہ (۷) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ مَا جَاءَ فِي مَقْتَل مَرْحَبِ الْيَهُودِئُ بَطْلٍ يَهُودِ وَمَنْ قَتَلَهُ وَفِيهِ مُعْجِزَةٌ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَمَنقَبَةٌ عَظِيمَةٌ لِلإِمَامِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رضي الله عنه وَكَرَّمَ اللَّهُ وَجْهَهُ باب: یہود کے پہلوان مرحب یہودی کے قتل اور اس کے قاتل کا بیان اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معجزہ¤اور سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ وَکَرَّمَ اللّٰہُ وَجْہَہٗکی منقبت کا بیان
عَنْ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ عَلِيٍّ حِينَ بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ بِرَايَتِهِ فَلَمَّا دَنَا مِنَ الْحِصْنِ خَرَجَ إِلَيْهِ أَهْلُهُ فَقَاتَلَهُمْ فَضَرَبَهُ رَجُلٌ مِنْ يَهُودَ فَطَرَحَ تُرْسَهُ مِنْ يَدِهِ فَتَنَاوَلَ عَلِيٌّ بَابًا كَانَ عِنْدَ الْحِصْنِ فَتَرَّسَ بِهِ نَفْسَهُ فَلَمْ يَزَلْ فِي يَدِهِ وَهُوَ يُقَاتِلُ حَتَّى فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ ثُمَّ أَلْقَاهُ مِنْ يَدِهِ حِينَ فَرَغَ فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي فِي نَفَرٍ مَعِي سَبْعَةٌ أَنَا ثَامِنُهُمْ نَجْهَدُ عَلَى أَنْ نَقْلِبَ ذَلِكَ الْبَابَ فَمَا نَقْلِبُهُمولائے رسول سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کو اپنا جھنڈا دے کر روانہ فرمایا تو ہم بھی ان کے ہمراہ گئے، جب وہ قلعہ کے قریب پہنچے تو قلعہ کے لوگ مقابلہ کے لیے باہر آئے، سیّدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے قتال کیا، ایک یہودی نے بھی ان پر حملہ کیا اور ہوا یہ کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ سے ڈھال گر گئی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے قلعہ کے پاس پڑے ہوئے ایک دروازہ کو پکڑ کر اسی کو اپنے لیے ڈھال بنا لیا، فتح ہونے تک آپ یہود سے مقابلہ کرتے رہے اور لڑائی سے فارغ ہونے کے بعد اسے اپنے ہاتھ سے پھینکا، وہ اس قدر ثقیل تھا کہ ہم آٹھ آدمیوں نے اسے الٹنا پلٹنا چاہا تو اسے الٹ بھی نہ سکے۔