حدیث نمبر: 1081
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّهَا سَتَكُونُ مِنْ بَعْدِي أُمَرَاءُ يُصَلُّونَ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا وَيُؤَخِّرُونَهَا عَنْ وَقْتِهَا، فَصَلُّوهَا مَعَهُمْ، فَإِنْ صَلَّوْهَا لِوَقْتِهَا وَصَلَّيْتُمُوهَا مَعَهُمْ فَلَكُمْ وَلَهُمْ وَإِنْ أَخَّرُوهَا عَنْ وَقْتِهَا فَصَلَّيْتُمُوهَا مَعَهُمْ فَلَكُمْ وَعَلَيْهِمْ، مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً، وَمَنْ نَكَثَ الْعَهْدَ وَمَاتَ نَاكِثًا لِلْعَهْدِ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا حُجَّةَ لَهُ)) قُلْتُ لَهُ: مَنْ أَخْبَرَكَ هَٰذَا الْخَبَرَ؟ قَالَ: أَخْبَرَنِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ أَبِيهِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، يُخْبِرُ عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عاصم بن عبیداللہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک میرے بعد عنقریب ایسے حکمران آئیں گے جو بسا اوقات وقت پر نماز پڑھیں گے اور کبھی کبھار اس کو وقت سے مؤخر کر دیں گے، پس اگر وہ وقت پر نماز پڑھیں اور تم بھی ان کے ساتھ پڑھو تو اس کا ثواب تمہارے لیے بھی ہو گا اور ان کے لیے بھی، لیکن اگر وہ نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کر دیں اور تم بھی ان کے ساتھ پڑھو، تو تمہیں تو ثواب ملے گا، لیکن اس کا وبال ان پر ہو گا، جوجماعت سے علیحدہ ہو گیا، وہ جاہلیت کی موت مرے گا اور جس نے معاہدہ توڑ دیا، عہد کو توڑنے والے کی حیثیت سے ہی مرے گا اور قیامت کے روز وہ اس حال میں آئے گا کہ اس کے حق میں کوئی حجت نہیں ہو گی۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1081
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «بعضه صحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف لضعف عاصم بن عبيد الله۔ أخرجه ابويعلي: 7201، وعبد الرزاق: 3779 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15681 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15769»