الفتح الربانی
أهم أحداث السنة الثالثة للهجرة— سنہ (۳) ہجری کے اہم واقعات
أمورٌ شَتَّى تَعَلَّقُ بِالقِتَالِ وَالمُقَائِلِينَ وَشُهَدَاءِ أحُدٍ باب: جنگ، اس کے مقاتلین اور شہداء احد سے متعلقہ مختلف امور کابیان
حدیث نمبر: 10736
عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ سَيْفًا يَوْمَ أُحُدٍ فَقَالَ مَنْ يَأْخُذُ هَذَا السَّيْفَ فَأَخَذَهُ قَوْمٌ فَجَعَلُوا يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ فَقَالَ مَنْ يَأْخُذُهُ بِحَقِّهِ فَأَحْجَمَ الْقَوْمُ فَقَالَ أَبُو دُجَانَةَ سِمَّاكٌ أَنَا آخُذُهُ بِحَقِّهِ فَفَلَقَ هَامَ الْمُشْرِكِينَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوۂ احد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک تلوار ہاتھ میں لے کر فرمایا: اس تلوار کو کون لے گا؟ لوگ اسے لے کر دیکھنے لگ گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کون ہے جو اسے لے کر اس کا حق بھی ادا کرے۔ تو لوگ پیچھے ہٹ گئے، سیدنا ابو دجانہ سماک رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میں اسے لے کر اس کا حق ادا کر وں گا، چنانچہ انہوں نے مشرکین کی کھوپڑیاں اتارنا شروع کر دیں۔