حدیث نمبر: 10734
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اشْتَدَّ غَضَبُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى قَوْمٍ فَعَلُوا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ حِينَئِذٍ يُشِيرُ إِلَى رَبَاعِيَتِهِ وَقَالَ اشْتَدَّ غَضَبُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى رَجُلٍ يَقْتُلُهُ رَسُولُ اللَّهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ٹوٹے رباعی دانت کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: ان لوگوں پر اللہ کا شدید غضب ہوا،جنہوں نے اللہ کے رسول کے ساتھ ایسا سلوک کیاا ور اس آدمی پر بھی اللہ کا شدید غضب ہے، جسے اللہ کا رسول اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے قتل کرے۔

وضاحت:
فوائد: … حافظ ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ میں کہا: واقدی نے کہا: میرے نزدیکیہ بات ثابت ہوئی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رخساروں پر تیر مارنے والا ابن قمئہ تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہونٹوں اور سامنے والے دانتوں پر وار کرنے والا عتبہ بن ابی وقاص تھا۔
دشمنوں کے ہاتھوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس قدر زخمی ہو جانے کییہ وجہ ہو سکتی ہے کہ ان کے اجر و ثواب میں اضافہ ہو جائے، نیز اس حقیقت کا پتہ چل جائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی بشر ہیں اور وہ عارضے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی پیش آ سکتے ہیں، جو عام طور پر انسانوں کا مقدر بن جاتے ہیں تاکہ لوگوں کویقین ہو جائے کہ اصل اختیار، اقتدار اور مرضی اللہ تعالیٰ کی چلتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الثالثة للهجرة / حدیث: 10734
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4073، ومسلم: 1793 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8213 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8198»