الفتح الربانی
أهم أحداث السنة الثالثة للهجرة— سنہ (۳) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ مَا أَصَابَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ أُحَدٍ مِنْ كَسْرِ رَبَاعِيَتِهِ وَشَحُ وَجْهِهِ وَوَقَايَةِ اللهِ عَزَّوَجَلَّ لَهُ بِالْمَلَائِكَةِ وَشِدَّةِ غَضَبِهِ عَلَى مَنْ فَعَلَ بِهِ ذَلِكَ باب: غزوۂ احد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کے دانتوں کی شہادت، چہرہ انور کا زخمی ہونا، اللہ تعالیٰ کا فرشتوں کے ذریعے آپ کی حفاظت کرنا اور آپ کے ساتھ بد سلوکی کرنے والوں پر اللہ کی شدید ناراضی کا بیان
((وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ) وَفِيهِ شُجَّ فِي وَجْهِهِ يَوْمَ أُحُدٍ وَكُسِرَتْ رَبَاعِيَتُهُ وَرُمِيَ رَمْيَةً عَلَى كَتِفَيْهِ فَجَعَلَ الدَّمُ يَسِيلُ عَلَى وَجْهِهِ وَهُوَ يَمْسَحُهُ عَنْ وَجْهِهِ وَهُوَ يَقُولُ كَيْفَ تُفْلِحُ أُمَّةٌ فَعَلُوا هَذَا بِنَبِيِّهِمْ وَهُوَ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَأَنْزَلَ {لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ} [آل عمران: 128] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ۔( دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: احد کے دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ زخمی ہو گیا، سامنے والے دانتوں اور کچلیوں کے درمیان والا دانت ٹوٹ گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کندھے پر بھی ایک تیر آکر لگا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے پر بھی خون بہنے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس عالم میں اپنے چہرے سے خون صاف کر رہے تھے اور فرما رہے تھے کہ وہ امت کیسے فلاح یاب ہو سکتی ہے، جنہوں نے اپنے نبی کے ساتھ یہ سلوک کیا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی: {لَیْسَ لَکَ مِنَ الْأَمْرِ شَیْئٌ أَوْ یَتُوبَ عَلَیْہِمْ أَوْ یُعَذِّبَہُمْ فَإِنَّہُمْ ظَالِمُونَ} … تیرے اختیارمیں اس معاملے سے کچھ بھی نہیں،یا وہ ان پر مہربانی فرمائے، یا انھیں عذاب دے، کیوں کہ بلا شبہ وہ ظالم ہیں۔
(ترمذی: ۳۰۰۴، نسائی:: ۲/ ۲۰۳، مسند احمد: ۵۶۷۴)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صفر (۴) سن ہجری میں ستر قراء صحابہ کو بئر معونہ والوں کی طرف بھیجا، تاکہ یہ ان کو قرآن مجید اور علم شرعی کی تعلیم دیں،ان کے امیر سیدنا منذر بن عمرو رضی اللہ عنہ تھے، لیکن عامر بن طفیل نے ان قراء کو قتل کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان کا بڑا دکھ ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ماہ قنوت ِ نازلہ کی اور ان قبائل پر بد دعا، بالآخر یہ آیت نازل ہوئی اور اس کے نزول کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بددعا کرنا ترک کر دیا تھا۔
ویسے تعیین کے ساتھ صرف اس آدمی پر لعنت کی جا سکتی ہے، جس کا وحی کے ذریعے جہنمی ہونا واضح ہو چکا ہو، مثلا ابو جہل پر لعنت ہو، ابو لہب پر لعنت۔
وگرنہ کسی کافر اور مسلمان پر تعیین کے ساتھ لعنت نہیں کی جا سکتی، کیونکہ ممکن ہے کہ ایسا کافر اپنی زندگی میں مشرف باسلام ہو جائے، ہاں مطلق طور ایسے کہنا درست ہے کہ کافروں پر لعنت ہو، جھوٹوں پر لعنت ہو، اس سے مراد وہ افراد ہوں گے، جنھوں نے کفر اور جھوٹ کی حالت میں ہی مرنا ہو گا۔
ان دو احادیث میں الگ الگ واقعات بیان کیے گئے ہیں، پہلے غزوۂ احد اور اس کے بعد بئر معونہ کا واقعہ پیش آیا، لیکن دونوں میں ایک ہی آیت کے نزول کا ذکر ہے۔ حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ علیہ نے جمع و تطبیق کییہ صورت بیان کی ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ احد کے بعد نماز میں مذکورہ لوگوں پر بد دعا کی تو دونوں واقعات کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ لیکنیہاں اصول تفسیر کا یہ قانون پیش کرنازیادہ بہتر ہے کہ صحابۂ کرام جب ایک آیت سے مختلف مسائل استنباط کرتے ہیں تو وہ لفظ فَنَزَلَتْ استعمال کرتے ہیں،یہ سب سے بہتر صورت ہے۔