الفتح الربانی
أهم أحداث السنة الثالثة للهجرة— سنہ (۳) ہجری کے اہم واقعات
بَابُ مَا أَصَابَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ أُحَدٍ مِنْ كَسْرِ رَبَاعِيَتِهِ وَشَحُ وَجْهِهِ وَوَقَايَةِ اللهِ عَزَّوَجَلَّ لَهُ بِالْمَلَائِكَةِ وَشِدَّةِ غَضَبِهِ عَلَى مَنْ فَعَلَ بِهِ ذَلِكَ باب: غزوۂ احد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کے دانتوں کی شہادت، چہرہ انور کا زخمی ہونا، اللہ تعالیٰ کا فرشتوں کے ذریعے آپ کی حفاظت کرنا اور آپ کے ساتھ بد سلوکی کرنے والوں پر اللہ کی شدید ناراضی کا بیان
عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شُجَّ يَوْمَ أُحُدٍ وَكَسَرُوا رَبَاعِيَتَهُ فَجَعَلَ يَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ وَهُوَ يَقُولُ كَيْفَ يُفْلِحُ قَوْمٌ خَضَّبُوا وَجْهَ نَبِيِّهِمْ بِالدَّمِ وَهُوَ يَدْعُوهُمْ إِلَى رَبِّهِمْ عَزَّ وَجَلَّ فَأُنْزِلَتْ {لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ} [آل عمران: 128]سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوۂ احد کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے والے دو دانتوں اور کچلیوں کے درمیان والا دانت شہید ہوگیا اور آپ کا رُخ انور اس قدر زخمی ہو گیا کہ خون آپ کے چہرے پر بہہ پڑا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی اثناء میں فرما رہے تھے: وہ قوم کیسے کامیاب ہو گی، جنہوں نے اپنے نبی کے ساتھ یہ سلوک کیا، حالانکہ وہ نبی تو انہیں ان کے رب کی طرف بلا رہا تھا۔ اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی: {لَیْسَ لَکَ مِنَ الْأَمْرِ شَیْئٌ أَوْ یَتُوبَ عَلَیْہِمْ أَوْ یُعَذِّبَہُمْ فَإِنَّہُمْ ظَالِمُونَ} … آپ کو اس بارے میںکچھ بھی اختیار نہیں،یہ اللہ کی مرضی ہے کہ ان پر توجہ کرےیا انہیں عذاب سے دو چار کرے، بے شک وہ ظالم ہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جن لوگوں کے بارے میں یہ فرما رہے تھے کہ وہ کیسے کامیاب ہوں گے،ان میں سے اکثر مشرف باسلام ہو گئے تھے۔