حدیث نمبر: 10727
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَأَيْتُ كَأَنِّي فِي دِرْعٍ حَصِينَةٍ وَرَأَيْتُ بَقَرًا مُنَحَّرَةً فَأَوَّلْتُ أَنَّ الدِّرْعَ الْحَصِينَةَ الْمَدِينَةُ وَأَنَّ الْبَقَرَ هُوَ وَاللَّهِ خَيْرٌ قَالَ فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ لَوْ أَنَّا أَقَمْنَا بِالْمَدِينَةِ فَإِنْ دَخَلُوا عَلَيْنَا فِيهَا قَاتَلْنَاهُمْ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا دُخِلَ عَلَيْنَا فِيهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَكَيْفَ يُدْخَلُ عَلَيْنَا فِيهَا فِي الْإِسْلَامِ قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ فَقَالَ شَأْنَكُمْ إِذًا قَالَ فَلَبِسَ لَأْمَتَهُ قَالَ فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ رَدَدْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأْيَهُ فَجَاءُوا فَقَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ شَأْنَكَ إِذًا فَقَالَ إِنَّهُ لَيْسَ لِنَبِيٍّ إِذَا لَبِسَ لَأْمَتَهُ أَنْ يَضَعَهَا حَتَّى يُقَاتِلَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا میں ایک محفوظ مضبوط قلعہ کے اندر ہوں، اور میں نے ایک ذبح شدہ گائے دیکھی، میں نے اس کی تعبیریہ کی کہ مضبوط ومحفوظ قلعہ سے مراد مدینہ منورہ ہے، اور اللہ کی قسم گائے کا دیکھنا بھی بہتر ہے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ سے مشورہ کرتے ہوئے فرمایا: اگر ہم مدینہ میں ٹھہریں، پھر اگر دشمن ہم پر حملہ آور ہو تو ہم ان سے قتال کریں، اس بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ تو صحابہ کرام نے عرض کیا: اللہ کے رسول! دشمن ہم پر ہمارے شہر میں اس وقت بھی نہیں آیا تھا، جب ہم کافر تھے، اب جب کہ ہم اسلام میں داخل ہو چکے ہیں، وہ ہمارے اوپر ہمارے شہر میں کیونکر آسکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کی بات سن کر فرمایا: چلو ٹھیک ہے، جیسے چاہو کر لو۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہتھیار اپنے جسم پر سجالئے، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہ منظر دیکھ کر انصاریوں نے آپس میں کہا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رائے کے برعکس عمل کیا ہے۔ (اللہ خیر کرے) چنانچہ انہوں نے آکر عرض کیا کہ اللہ کے نبی! آپ اپنی رائے پر ہی عمل کریں، لیکن اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نبی کے لیےیہ روا نہیں کہ جب وہ ہتھیاروں سے مسلح ہو جائے تو دشمن سے قتال کیے بغیر انہیں اتار دے۔

وضاحت:
فوائد: … ذبح شدہ گائے سے مراد غزوۂ احد میں ہونے والی ستر صحابۂ کرام کی شہادت ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أهم أحداث السنة الثالثة للهجرة / حدیث: 10727
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أخرجه الدارمي: 2159، وابن ابي شيبة: 11/ 68 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14787 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14847»